National Institute of Informatics - Digital Silk Road Project
Digital Archive of Toyo Bunko Rare Books

> > > >
Color New!IIIF Color HighRes Gray HighRes PDF   Japanese English
0218 Antiquities of Indian Tibet : vol.2
Antiquities of Indian Tibet : vol.2 / Page 218 (Grayscale High Resolution Image)

New!Citation Information

doi: 10.20676/00000266
Citation Format: Chicago | APA | Harvard | IEEE

OCR Text

و نونوں چوکی دونوں بھائی برابر طبادور تھے اس لئے ان دونوں میں راجہ مان سنگھ کے وقت علاقہ کی تقسیم
ہوکر دونوں برابر برابر جاگیردار بن کر تابع راجہ مان سنگھ والی کلو کے ہوئے ۔ سنگی نے کمرنٹ کے علاقہ پر اپنا
قبضہ کرلیا ۔ اور نونوں چوکی نونگنگ کے علاقہ پر قابل پر رہا ۔ اس بے اس کے آگے اس خاندان کی دو شاخیں ہوکر جدا
جدا سلسلہ نسل اپنا آگے چلا ۔

سنگی کا بیٹا شریم ہوا ۔ شریم کا چوکی ۔ چوکی کا ہری رام ۔ ہری رام کا بھیمی رام ۔ بھیمی رام کے دو
پسران نیما سنگھ وگلو ہوئے ۔ نیما سنگھ کا موسی رام و گلو کا دیوی چند ہوئے ۔ اسودت موسی رام کا بیٹا
بھاگ چند و دیوی چند خود جاگیر پر قابض ہیں ۔ اور دوسرا سلسلہ نونوں چوکی کا بیٹا چھپانگ نمگسال
اور چھپانگ نمگسال کا نشی انگمال ۔ اور نشی انگمال کا چھپانگ ۔ اور چھپانگ کا بھاگ چند ۔ اور بھاگ
چند کے دو پسران دھرم سنگھ وتشی انگشا عرف چند دھرم ہیں ۔ رام چند بدما دونے ۔ دھرم سنگھ دولاد مرگیا ۔ دھرم چند
۱۸۷۷
کا پسر نارا چند اور نارا چند کے تین پسران ۔ ہری چند ۔ رام چند ۔ مہر چند ہوئے ۔ ٹھاکر نارا چند سنہ ع ۔ میں
لوئی چودھمترسال کی عمر کرکے سرگماس ہوا ۔ اور جاگیر کا داخلخارج حسب دستور تدیم *چھہ
ٹھاکرھری چند پسران کلان کے نام ہوا ہے ۔ اور قابض ہوں ۔ اور مہر نے پنجھے میرا پسر پر خوردار امر چند
جو اسودت عمر دیڑھ سال کا ہوا ہے والد وارث ہوگا ۔

ٹھاکر چند کا پسر جے چند موجود ہے ۔ مہر چند لاولد مرگیا ۔ دو سو سال سے کچھپہ زیادہ عرصہ یعنی
۱۸۷۳
نونوں چوکی سے ٹھاکر نارا چند کے عہد تک کے راجگان کلو کے تابع رہا ۔ ٹھاکر نارا چند کے وقت ہی
سنہ ع میں راجہ جست سنگھ کے کلو کا علاقہ اسودت نے لاہل میں سکھوں کی مداخلت
۱۸۴۹
ہوا ۔ چھہ سال تک سکھوں کا تعمل حکومت رہا ۔ تب بھی ہمارے خاندان کی جاگیرات مذکورہ بالا بدستور
قائم و برقرار رہیں ۔ میں سرکار دولتمدار انگریز بہادر کا پاجاب پر تسلط ہوا ۔ اسودت میں بھی ہمارے
خاندان کی یہ دونوں جاگیرات بدستور قائم و برقرار رہیں ۔ یہ تنتوں انقلاب ٹھاکر نارا چند کے وقت کے
وقت میں ہوکی تھیں ۔ ہماری جاگیرات کا دستور پیڑاری راجگان کے دستور کے مطابق یہ ہے ۔ کہ ٹھاکر کا بڑا
بیٹا ٹیکہ کہلاتا ہے ۔ کل جاگیر کا حق ہونا ہے ۔ دوسرے بھائی اسے دونیا اس شعبار دونی ہیں جواس
مدرمی جاگیر سے رف گذارہ کیا مستحق ہو تو ہیں ۔ اکیسی اصلی ٹھاکر کا ٹیکہ [نہ] دو جانے تب قریب تر
دوبھائیں حق جاگیر کا ہونا ہے ۔ خمینا دسمہ آٹھ سو سال کے جب نابن چند کولونگ کے علاقہ
بنگال سے آکر لاہل میں آباد ہوا ۔ اسی وقت ایک خاندان پال کا ۔ ٹھاکر رنی پال کوندہ علاقہ بنگال سے
علاقہ لاہل میں آکر مقام تمن آباد ہوا ۔ اور اپنے پہلے مکان کے نام پر تمن کو کوندلہ مشہورکیا ۔ جسکے
خاندان کا اسودت ٹھاکر چند جاگیردار کوندلہ موجود ہے ۔

(اول) جب تعملداری نبت کی [رہی] تابع میں توجہاکو نبت کے ماتحت [ہمارے بزرگ] کل علاقہ
لاہل پر حکومت کرتے رہے ۔