国立情報学研究所 - ディジタル・シルクロード・プロジェクト
『東洋文庫所蔵』貴重書デジタルアーカイブ

> > > >
カラー New!IIIFカラー高解像度 白黒高解像度 PDF   日本語 English
0219 Antiquities of Indian Tibet : vol.2
インド・チベットの芸術品 : vol.2
Antiquities of Indian Tibet : vol.2 / 219 ページ(カラー画像)

New!引用情報

doi: 10.20676/00000266
引用形式選択: Chicago | APA | Harvard | IEEE

OCR読み取り結果

(۲) پھر جب تک راجگان کتوکے ساتھ رہی توجوتعلق راجگان کتو و اذاع و نسبت کے ساتھ تھا
وہ سب خدمات ہمارے سپرد نہیں - ہمارے بزرگ اینکو: جا لائے رہے -
۱۸۵۲
(۳) شروع عملداری سرکار انگریزی میں لحاظ عزت خساندانی اول بتتاریخ ۱۰ ستمبر سنمع میں کل
علاقہ لاہل کی خدمات نمک بہارہ ۲ ٹھاکر تارا چند کے سپرد ہوئیں - وہ تخونی بجا لا ئی کلکس - اور
حکام وقت و صاحبان یوروپین مسافرین کی علاقہ ھذا میں ولیز سرحد نسبت پر خدمات بجا لائی کلکس -
علاوہ تاخواہ مقررہ نمک جارہ ۲ کیے کی خالصہ علاقہ لاہل کا حق چراتی جملات بھی ہمکو معاف فی -
۱۸۵۷
(۴) سنمع میں کہ جب مسٹر سلاگنویت ۳ صاحب بہادر افسر کمپاس علاقہ پارکند ۵ میں مارے گئے تھے -
۱۸۵۸
اسکا حال دریافت کرنے لئے کی خدمات گورنمنت میں سنمع میں ہچپہ گھباکر ھری چند کے سپرد ہوئی
تھیں - چناچہ میں نے بذات خود لداخ حاکم روانہ سے آگے اپنا خاص معتبر علاقہ پارکند میں بھیج کر
مفصل حال صاحب مذدوج کے موت کا [دریافت کرلیا] کہ ولی خاں سردار کوکان نے جو اسوقت ارد گرد
پارکند کی لوٹ مار کیا کرتا تھا ناحق صاحب مذدوج کو قتل کردیا تھا - دریافت کرکے بمقام چاندھر: بحضور
کرنیل لیک صاحب بہادر کمشنر حاضر ہوکر سرکار میں گذارش کیا تھا - اس خدمت کے صلہ میں سرکار
۱۰۰
دولتمدار نے ہچپہ کو ایک ہزار روپہ انعام اور چار سو روپہ سفر خرچ عطا ہوا تھا -
۱۸۶۱
(۵) سنمع میں جب خبر صاحبان انگریزی جیں میں شعملہ براستہ لاسہ وتبرہ پونچی ہے تو حسب
ایعلی گورنمنت باجازت والد بزرگوار خود ٹھاکر تارا چند صاحب میں بذات خود برائے پیشوائی و خدمت
گذاری صاحبان موصوف کے کادر و ردیکھہ علاقہ تبت تک گیا تھا - جب خبر نہ آئی صاحبان موصوف کی
میں توایس آکر حال دریافت شدہ سرکار میں گذارش کیا - اس خدمت کے صلہ میں خلعت و پروانہ
خوشنودی مزاج جناب نواب لفٹنٹ گورنر بہادر پنجاب بدستخط صاحب سکرٹری بہادر و پھر دفتر
گورنمنت عطا ہوا -
۱۸۶۱
(٦) اور سنمع میں سرکار نے بلحاظ غرت خاندانی و قدردانی خدمات والدم ٹھاکر تارا چند صاحب
عہدہ آنریری مجسٹریٹ و آنریری اسٹنٹ برسرفراز کیا گیا - اخبارات پولیس و فوجداری تحصل
درجہ اول اور دیوانی و کلکٹری میں سنمع تک معاف ہوئی - جرمانہ فوجداری معاف ہوا - علاوہ جاگیر قدیمی
۱۰
موروثی خود ایک سو رو پے کی معاف کوٹھی بریوک عطا ہوا -
۱۸۵۷
(۷) سنمع میں بموجب حکم مسٹر ریوٹی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر کانگڑو حسب مستصا سرکار
دولتمدار بغرض قائم کرنے رابطہ تجارت سایں ہندوستان و تبت براستہ یمستی گر علاقہ تبت تک بذات
خود گیا - اور اروپاں کی حالت دریافت کرکے سرکار میں گذارش کی - اس وقت مبلغ پانچ سو روپہ
سرکار سے انعام عطا ہوا -